حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیت المقدس کی دیوارِ ندبہ یہودیوں کے مذہبی مقامات میں ایک معروف مقام ہے، جسے یہودی ’’مغربی دیوار‘‘ بھی کہتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کے ہاں یہ ’’دیوارِ براق‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ مقام یہودی اور اسلامی روایات میں الگ الگ مذہبی اور تاریخی نسبت رکھتا ہے۔
بیت المقدس کی دیوارِ ندبہ کی تاریخ اور مذہبی اہمیت کے بعض پہلو درج ذیل ہیں:
دیوارِ ندبہ؛ یہودیوں کا مقدس ترین مذہبی مقام
بیت المقدس کے حرم شریف کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک پتھریلی دیوار کو آج یہودیوں کے مقدس ترین مذہبی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہودی اسے ’’مغربی دیوار‘‘ یا ’’دیوارِ ندبہ‘‘ کہتے ہیں، جس کے معنی گریہ و زاری اور آہ و فغاں کے ہیں، جبکہ عربی میں اسے ’’حائط المبکی‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہودی عقیدے کے مطابق یہ دیوار حضرت سلیمانؑ کے معبد اور یروشلم کے دوسرے معبد کی آخری باقیات میں سے ہے۔ ان کے نزدیک یہ مقام دعا اور مذہبی عقیدت کا اہم مرکز ہے۔
یہودی روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ دنیا کی تخلیق کے لیے استعمال ہونے والا بنیادی پتھر اسی مقام پر موجود تھا اور حضرت ابراہیمؑ نے بھی اسی جگہ اپنے بیٹے حضرت اسحاقؑ کو قربان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

دیوارِ ندبہ نام کیوں رکھا گیا؟
یہودی اس دیوار کے قریب دعا، عبادت، مذہبی متون کی تلاوت اور اپنی حاجات پیش کرتے ہیں۔ ’’دیوارِ ندبہ‘‘ کا نام بھی اسی روایت سے منسوب ہے، کیونکہ یہودی یہاں اپنے معبد کی تباہی اور اپنی تاریخ کے بعض واقعات پر سوگ مناتے ہیں۔
دنیا بھر کے یہودی اپنی روزانہ کی تین نمازوں کے دوران اسی مقام کی سمت کو قبلہ قرار دیتے ہیں۔
اس دیوار سے متعلق ایک دلچسپ روایت یہ بھی ہے کہ سال میں دو مرتبہ ربّی کی نگرانی میں دیوار کی صفائی کی جاتی ہے۔ زائرین کی جانب سے دیوار کی دراڑوں میں رکھے گئے ہزاروں دعائیہ کاغذات نکالے جاتے ہیں تاکہ نئی دعاؤں کے لیے جگہ بن سکے۔ بعد ازاں ان کاغذات کو مذہبی رسم کے تحت بیت المقدس کے کوہِ زیتون پر دفن کیا جاتا ہے۔

دیوارِ براق؛ واقعۂ معراج سے مسلمانوں کا تعلق
مسلمان اس مقام کو ’’دیوارِ براق‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اسلامی روایت کے مطابق، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ اسراء و معراج کے موقع پر اپنی سواری براق کو اسی مقام پر باندھ کر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔
براق اس آسمانی سواری کا نام ہے جس پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عظیم سفر کے دوران سفر فرمایا۔ اسی نسبت سے یہ مقام اسلامی تاریخ اور مذہبی روایات میں واقعۂ اسراء و معراج سے جڑا ہوا ہے۔









آپ کا تبصرہ